مرد مومن مرد حق

سب سے پہلے ایک قصیدہ تو صباحت زکریا کا ہو جائے کہ وہ مجھے بہت پسند ہیں اور جب سے انہوں نے اپنے ولاگ بنانے شروع کئے ہیں ان کا ایک ایک لفظ انکی تحقیق، مثبت سوچ اور تجزیاتی فکر کو ظاہر کرتا ہے۔آج کا ولاگ جو ضیا دور کی پی ٹی وی پر دکھائی جانے والی موسیقی کے بارے میں تھا، بہت ہی نوسٹیلجک اور پرانے زمانے میں کھینچ کر لے جانے والا تھا۔ ہر انسان جس نے اسی کی دہائی میں پی ٹی وی دیکھا ہے وہ کم و بیش ایک جیسی میموریز ہی رکھتا ہے

صباحت ضیا کو ڈیفینڈ نہ کرتے ہوئے یہ بتا رہی تھیں کہ اس وقت بھی پی ٹی وی اس طرح ایکسٹریمسٹ اور مذہبی نہیں تھا جیسا کہ ضیا دور کا تاثر ہے بلکہ لباس اور مواد کے لحاظ سے وہ کافی لبرل ہی تھا اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ضیا کے آنے پر وہ ہوا جو ہوا، وہ دیکھ سکتے ہیں کہ خواتین نے چادروں کی بجائے ہلکے دوپٹے ہی اوڑھ رکھے ہیں۔صباحت اس بارے میں ایک سیریز بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں اور مجھے بہت انتظار ہے کہ وہ دکھائیں کہ کیسے نواز دور میں مردوں کے بھی ٹی وی پر جینز پہننے پر پابندی تھی مگر بے نظیر دور میں ایک ڈرامہ چلا جس میں جاوید شیخ اور نیلی دو ایسے دوستوں کے طور پر دکھائے گئے جو ایک چھت تلے اکٹھے رہتے ہیں۔ میں نے صرف اپنی یادداشت سے کام لیا اس لئے سن کی نشاندہی میں نہیں کر پاوں گی۔

میں نے سن 80 میں جنم لیا اس لئے ستر کی دہائی میں نے نہیں دیکھی مگر ضیا دور میں آنے والی تبدیلی اور اسکے شدید ہونے کے بارے میں ان لوگوں سے سنا جو ستر کی دہائی بھی دیکھ چکے تھے اور انکے نزدیک ضیا دور میں چادر اور چار دیواری کی تصور نے ایک عمومی انسان کی سوچ کو بہت بدلا اور ٹی وی پر ہونے والی عکاسی میں اس سوچ کا بدلاو ضیا کے بہت بعد تک ظاہر ہوتا اور شدت اختیار کرتا گیا۔ میری امی جو ایک خاتون خانہ ہیں، وہ اس بات کو یوں بیان کرتی ہیں کہ ستر کی دہائی میں لباس کے معاملے میں سختی نہیں تھی مگر نظر صاف تھی، ضیا نے لباس پر زور دے کر نظر کی گندگی کو بڑھایا۔

صباحت نے شبنم شکیل صاحبہ کی ایک تصویر بھی شئیر کی جس میں وہ پی ٹی وی کے کسی شو میں ساری میں ملبوس یں مگر انکی ستر کی دہائی کہ یہ تصویر جو بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ ہے، اس میں ساری کے انداز میں بہت فرق ہے۔

ابھی ہم پاکستان کو مذہبی لحاظ سے شدت پسند تصور کرتے ہیں۔ میرے نزدیک اظہار رائے پر ایک قدغن ہے۔ عورت کے کردار کو بہت محدود کیا جا رہا ہے اور ٹی وی ڈراموں میں بھی ایکسٹریم کی مظلوم یا ظالم عورت کی عکاسی کی جا رہی ہے مگر ساتھ میں ہی اگر ہم لکس صابن کا اشتہار دیکھیں یا ویٹ کریم کا تو اس میں لباس بہت کم اور مغربی ہے۔

 ستر کی دہائی کو وٹنس کرنے والے ضیا ہیپنڈ کی اصطلاح اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ اس دور میں اشفاق صاحب، بانو صاحبہ، ٹی وی ڈراموں اور باقی چیزوں کے ذریعے وہ مائنڈ سیٹ کرئیٹ کیا گیا جس نے آج ہونے والے ڈاون فال کے لئے راہ ہموار کی۔ اسوقت چیزیں ایک مومنٹم میں تھیں اس لئے بہت ڈراسٹک  بدلاو لانا شائد ممکن ہی نہ تھا مگر اس دور میں جس پود کا پیڑ لگایا گیا وہ آج ہمیں ہاتھ میں ڈنڈا لئے ہم سب کو ہانکتے نظر آتے ہیں۔ تو یہ سوچیں ہیں جو اس ولاگ کو دیکھنے سے پیدا ہوئیں-۔

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *